جمعہ، 14 اگست، 2015

وطنیت پرستی اور حُب الوطنی

 اگست 14 1947 ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے جس دن یہ نظریاتی ریاست لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کی صورت میں وجود میں آئی۔ ایک ایسا ملک جو آزادی کی تحاریک کے قافلے میں ایک منفرد مقام رکھتا تھا اس کو ایک اصولی نظریاتی قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ۔ اسلامی تاریخ میں نظریاتی ریاست کی یہ روشن مثال نبی ﷺ کی قیادت میں مدینہ میں اپنا جلوہ دکھاتی رہی اور اس کے بعد پاکستان ایک ریاست کے طور پر وجود میں آیا جس کی بنیاد نظریاتی تھی ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کی بنیاد یعنی دو قومی نظریہ کو بڑے سادہ مگر تاریخی حقائق پر مبنی انداز میں بیان کیا۔۔۔" پاکستان کی بنیاد اُسی روز پڑ گی تھی جس دن برصغیر کی سرزمین پر پہلا ہندو مسلمان ہوا"۔۔



حب الوطنی فطرت ہے اور وطن پرستی عصبیت یہ وہ فرق ہے جو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے اللہ کے نبی ﷺ جب مکہ سے ہجرت کرنے لگے تو مکہ کی جانب دیکھ کر کہا اے مکہ مجھے تُجھ سے بہت محبت ہے مگر تیرے باسی مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ یہ حُب وطنی کی ایک مثال ہے۔
 وطنیت پرستی یہ ہے کہ جو شے میرے وطن کے لئے ہے وہ میں کروں چاہے وہ حرام ہو اللہ کے قوانین کے خلاف ہو کہ وہ شے میرے وطن کے لئے تو صحیح ہے اس لئے اسے میں کروں گا یہ سوچ دراصل  قومیت پرستی یا وطن پرستی ہے۔ حب الوطنی نہیں۔اس لیے اپنی محبت کا معیار صرف اور صرف اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے اس ملک کا حصول اللہ کے نام اور اس کےاحکام کے نٖفاذ کے لیے کیا گیا تھا اس لیے اس سے محبت اور اس کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے مگر امت مسلمہ کے تصور کو بھی ہمشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ علامہ محمد اقبال ہمشہ وطنیت پرستی کے بجائے امت مسلمہ اور مسلم قومیت کے حامی تھے ۔
 ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔وہ کہتے ہیں،
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی

اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

اقبال نے مارچ 1938ءمیں ایک مضمون لکھا جس میں وطنیت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی۔ اور بتایا کہ وہ کس قسم کی وطنیت کے مخالف ہیں اس مضمون میں وطنیت کے سیاسی تصور سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
” میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداءہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔
آگے چل کر لکھتے ہیں،
” اگر بعض علماءمسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ”دین “ اور ”وطن“ بحیثیت ایک سےاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔“ ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال وطنیت کے مغربی سےاسی تصور کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت اس وجہ سے ہے کہ نظریہ براہ راست اسلامی عقائد و تصورات سے متصادم ہوتا ہے۔
علامہ اقبال کا تصور قومیت ہی اصل میں پاکستان کی بنیاد ہے وہ ایسے خطہ کے حامی تھے جس میں مسلمان اکثریتی علاقے مل کر ایک ملک بنائیں علامہ کی ایک غزل جو وطنیت پرستی کے خلاف تھی مگر حُب وطن کے ہرگز نہیں ہمارے کچھ احباب اس ملک کی تقسیم اور اس سے محبت کو شرک اور گناہ قرار دیتے ہیں۔

ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے مذہب کا کفن ہے

اسی شعر کو لکھا جاتا ہے مگر وہ احباب وہ اشعار نہیں بیان کرتے جس میں علامہ نے تحریک پاکستان کی جدوجہد کرنے والے افراد کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف لکھے

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

یہ سب تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم آج کی نئی نسل کے ذہن میں اس ملک کے حصول کا اصل مقصد بیان کریں اور اُسے وطنیت پرستی کے گناہ اور شرک سے نکال کر امت مسلمہ کے تصور کی طرف لائیں اور بتائیں کہ حُب الوطنی فطرت ہے مگر کسی ایسی بنیاد پر اپنی ملک یا قوم کے حق اور محبت میں مبتلا ہونا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے ٹکرائے وہ گناہ ہے اور غلط ہے۔یہ ملک لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا وہ قربانیاں ہمارے آباء نے صرف اور صرف پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الاّ اللہ کی بنیاد پر دیں یہ ہی نعرہ ان کو اس بات پر یقین دلاتا تھا کہ اگر ہم اس راہ میں کٹ گے تو ہماری قربانی اللہ کے ہاں مقبول ہو گی اس کے علاوہ کسی بھی چیز کی بنیاد پر آزادی کی بات کی جاتی تو شاید اتنی بڑی تعداد میں لوگ قربانیاں نہ دیتے ۔
آج ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ کیا اس ملک کا حصول اس لیے تھا کہ نوجوان نسل 14 اگست کو بھارتی گانوں کی دھن پر گلیوں بازاروں میں رقص کرتی پھرے ؟ کیا اس ملک کا حصول اس لیے تھا کہ ایوان سیاست میں بیٹھے سیاست دان اس ملک میں اسلام کے نفاذ کی کوشش نہ کریں ؟ یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا کہ یہاں زنا ، چوری رشوت ستانی کا بازار گرم ہو ؟ وہ مائیں جن کی عزتیں نیلام ہوئیں ؟ وہ بہنیں جن کی عصمتیں پامال ہوئیں ؟ وہ بھائی جو سولی پر لٹکے ، وہ شیر خوار بچے جن کو نیزوں پر اُچھالا گیا کیا اس لیے ان سب نے قربانیاں دیں ؟

نہیں ہرگز نہیں یہ سب قربانیاں صرف اور صرف اس لیے تھیں کہ ایک ایسا ملک وجود میں آئے کہ جہاں امن ہو خوشحالی ہو جہاں نیکی کرنا آسان اور برائی کرنا مشکل ہو جہاں عدل ہو انصاف ہو جہاں بھائی چارہ ہو اخوت ہو جہاں انسان انسان کا دشمن نہیں انسان انسان کا خیر خواہ ہو جہاں امیر غریب سب برابر ہوں ایک ایسے پاکستان کے لیے ایک ایسے آئیڈیل خطے کے لیے لوگوں نے قربانیاں دیں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کے بعد وجود میں آنے والی یہ ریاست ریاست مدینہ کا ماڈل بن سکے اس لیے لوگوں نے اپنی نسلوں کو قربان کیا گھر بار چھوڑا اور لُٹے پُٹے پاکستان کی سرزمین پر آئے ۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ ملک میرا اور آپکا ملک ہے ہم آگے بڑھ کر اس کی تعمیر میں کردار ادا کریں ۔ اس کا مقصد حقیقی مقصد وجود نئی نسل کو بتائیں جو صرف چند جھنڈیاں لگا لینے اور بائیک کا سائلنسر نکال کر خوشی کا اظہار کرنے کو ہی یوم آزادی سمجھتی ہے اُسے مثبت طرف لگانا اور مقصد وجود سے آگاہ کرنا میرا آپکا فرض ہے۔ آج یہ ملک ہماری غلط پالیسوں کے نتیجے میں دہشت گردی بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے مگر مایوسی نا اُمیدی مسلمان کا شیوہ ہرگز نہیں آئیں میں اور آپ کردار ادا کریں اس ملک کی تعمیر میں ہر میدان میں اس ملک کے نام کو روشن کریں اس کا مثبت چہرہ دنیا کو پیش کریں۔ اپنے ووٹ کی طاقت سے ان افراد کو اس ملک کی قیادت سونپیں جو اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں اور جو اس کا مقصد ہے اس کے حصول اور تکمیل کی طرف اس ملک کو لے جائیں۔ تمام تر کمزوریوں کوتاہیوں اور حالات کی خرابی کے باوجود اگر ہم اس یوم آزادی پر اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر اس ملک کے لیے ایک عزم کریں کہ ہمیں اس کو ٹھیک کرنا ہے تو انشا اللہ ایک دن آئے گا یہ ملک دنیا پر حکمرانی کرے گا ۔۔
 اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں ایسے تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے آمین۔

میر عرب ﷺ کو آئی تھی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے